برادران امامیہ سے یہ خطاب
١٢ اپریل،١٩٨٦
عزاخانہ زہراء کراچی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یٰٓاَیَّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوْاللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَاناً وَیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ۔ (الانفال: ۲۹)
خالق نے قرآن میں مومنین کو خطاب کیا ہے: اِنْ تَتَّقُواللہ — اگر تم لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا، اگر تم متقی بن گئے، تو یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا — خداوندِ متعال تمھارے لیے فرقان عطا کرے گا۔ ایسی روح آپ کو بخشے گا، ایسی چیز آپ کو عطا کر دے گا کہ اس چیز کے ذریعے سے آپ حق اور باطل کے درمیان فرق کر سکیں گے، اور اس چیز کی نورانیت اور ہدایت کی برکت سے آپ وہ راستہ، جو خدا کی طرف جاتا ہے، اس راستے سے جدا کر سکیں گے جو شیطان کی طرف جاتا ہے۔
وَیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ — جب تم لوگ تقویٰ اختیار کرو گے، تو خداوندِ متعال تمھاری برائیوں کو چھپا دے گا۔
وَیَغْفِرْ لَکُمْ — اور تمھارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔
کچھ ہوتے ہیں اصول۔ جس طرح ایک عمارت کے لیے بنیاد کی ضرورت ہے، جس پر وہ عمارت کھڑی ہو جاتی ہے، اسی طرح ہمیں بھی زندگی میں سعادت کے حصول کے لیے، سعادتِ دنیوی و اُخروی کے حصول کے لیے، کچھ اصول اپنانے چاہئیں، کچھ بنیادیں بنانی چاہئیں۔ اگر ان بنیادوں پر ہم نے اپنی زندگی کو استوار کیا تو یقیناً پھر ہم سرفراز و سربلند ہوں گے۔ جو بھی مشکل ہم پر آئے گی، ہم اس سے سرفراز و سربلند باہر آئیں گے اور شکست سے دوچار نہیں ہوں گے۔
ان اصولوں میں سے ایک اصول اور ان بنیادوں میں سے ایک بنیاد تقویٰ ہے۔ اگر ہم نے تقویٰ اختیار کر لیا تو اس کے بعد خداوندِ متعال نے وعدہ کیا ہے کہ ہم تم کو فرقان عطا کریں گے۔ اس فرقان کے ذریعے آپ اپنی زندگی میں نیک و بد، حق و باطل اور سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکیں گے، اور آپ کسی جگہ پر نہیں پھسلیں گے، اور لغزش میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
تقویٰ کی پہلی نشانی
تقویٰ کا ایک اثر یہ ہے کہ اگر واقعاً ہمارے دلوں میں تقویٰ موجود ہو، تو پھر ہم اپنے بھائیوں کے خلاف نہ بات کریں گے نہ ان کے خلاف بدگمانی پھیلائیں گے، بلکہ اگر ایک کام ہم نے اپنے بھائی سے دیکھ لیا، تو اس کو حمل بر صحت کریں گے۔ میں نے اگر دیکھ لیا کہ ایک لڑکا ایک خاتون کو اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار کر کے لے جا رہا ہے، تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ نامحرم لڑکی کو ساتھ لیے جا رہا تھا، بلکہ میں حمل بر صحت کروں گا کہ ہو سکتا ہے وہ اس کی بہن ہو، ہو سکتا ہے کہ اس کی پھوپھی یا خالہ ہو، مثلاً اس کے محارم میں سے ہو، محرم ہو (نامحرم نہ ہو)۔
یا مثلاً اگر میں نے دیکھ لیا کہ ہمارے بھائی نے ایک لفظ کہہ دیا جس سے فرض کریں دوسرے بھائی کی مذمت ہو، تو یہاں پر میں اس کو حمل بر صحت کروں گا کہ ہو سکتا ہے یہاں پر کچھ مصلحت ہو، اور اس مصلحت کی وجہ سے اس شخص نے یہ لفظ کہا ہو۔ جس طرح کہ ہمارے آئمہ اطہارؑ اپنے اصحاب کو زمانے کے حکمرانوں کے ظلم و تشدد سے بچانے کے لیے کبھی کبھی ان کے خلاف بھی ایک آدھ جملہ استعمال کرتے تھے تاکہ وہ لوگ کہیں کہ یہ ان افراد میں سے نہیں ہے۔
تو اسی طرح اگر مثال کے طور پر کسی بھائی نے (ہم آپ کی مثال نہیں دیتے، ہم اپنی مثال دیتے ہیں) کہ ہم مثلاً متنازع فیہ قسم کے افراد میں سے ہیں۔ اب ایک علاقے میں اگر کوئی سمجھے کہ آپ ہمارے ساتھ مربوط ہیں، تو پہلے سے ہی آپ کو کام کا موقع نہیں ملے گا۔ لہٰذا وہاں پر آپ کہہ دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے، یہ فلاں قسم کی فکر رکھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ اس مصلحت کے تحت ہے تاکہ آپ کو وہاں کام کرنے کا موقع مل جائے اور آپ ان میں فکرِ اسلامی کے لیے کام کر سکیں۔
اگر پہلے سے وہ یہ سمجھ لیں کہ آپ فلاں شخص کے ساتھ مربوط ہیں، تو آپ ادھر تقریر کے لیے اٹھیں گے تو وہ آپ کے خلاف نعرے لگائیں گے کہ یہ فلاں کا آدمی ہے، اسے نکال دو، بولنے نہ دو۔ پس ہم اگر ایک جگہ دیکھیں گے کہ فلاں شخص کے خلاف اس نے بات کی، تو ہم اس کو اس وقت حمل بر صحت نہیں کریں گے، فوراً اس کو سند بنا کر پورے یونٹوں کو بھیج دیں گے کہ فلاں تو ہمارے آئی۔ایس۔او کے خط کے خلاف ہے، اس نے ہمارے فلاں آدمی کے خلاف تقریر کی ہے، یہ کیا ہے؟ وہ کیا ہے؟ وغیرہ۔
اور اس شخص کو، جو آپ کے پاس نعمت تھی اور قدرت تھی، آپ نے اس کو خودبخود ضائع کر دیا۔ یا مثال کے طور پر بعض جگہوں میں کچھ افراد مستضعف ہیں، ابھی تک وہ حقائق درک نہیں کر سکے ہیں۔ اگر یہاں پر آپ کے دل میں تقویٰ موجود ہے، تو آپ ان کو موقع دے دیں، ان کے ساتھ بات کریں، ان سے بحث کریں، ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کی طرف آ جائیں۔ لیکن اگر غصے میں آکر، احساسات میں آکر، آپ نے ان کے خلاف باتیں کیں، آپ نے ان کے احساسات و جذبات کو مجروح کیا، تو وہ آپ کے پاس آنے کے لیے تیار تھے بھی تو آپ کے اس رویے کی وجہ سے وہ آپ کی تنظیم سے دور ہو جائیں گے۔
اب ایک نشانی تقویٰ کی یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی تنظیم میں کسی بھائی سے کوئی ایک بات دیکھ لی تو آپ فوراً اس کو برے پہلو پر حمل نہ کریں، آپ اس کو حق اور نیکی پر حمل کریں۔ یہاں تک کہ بعد میں اگر آپ کو تحقیق کے ذریعے معلوم ہو گیا کہ وہ واقعاً آپ کے خط کا مخالف ہے، وہ مثلاً آپ کی تنظیم کے ساتھ نہیں ہے، تو اس کے بعد آپ جو قانون ہے، اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ تقویٰ کی ایک نشانی ہے۔
تقویٰ کی دوسری نشانی
تقویٰ کی دوسری نشانی یہ ہے (البتہ نشانیاں بہت ہیں) کہ ہم یہاں تحریکوں اور تنظیموں میں کام کرتے ہیں۔ خداوندِ متعال نے اذہان کے لحاظ سے انسانوں کو مختلف پیدا کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں میرا، آپ کے ساتھ یا دوسرے بھائی کے ساتھ فکری طور پر کوئی اختلاف ہو جائے۔ اب یہاں پر دو حالتوں سے خارج نہیں ہے: یا میرے دل میں تقویٰ الٰہی موجود ہے، یا تقویٰ الٰہی موجود نہیں ہے۔
یا دوسری مثال: فرض کریں آپ نے پہلے مجھے یونٹ کا کوئی عہدہ دیا تھا، بعد میں مجھ سے بہتر ایک آدمی آپ کو مل گیا، جو تنظیم کیلئے زیادہ اور بہتر کام کر سکتا تھا۔ وہ عہدہ آپ نے مجھ سے لے کر اس کو دے دیا۔ اب یہاں پر اگر میرے دل میں تقویٰ موجود ہے تو پھر اس عہدے کو اگر آپ نے مجھ سے لے لیا، پھر بھی میں آپ کی تنظیم کے ساتھ اسی طرح فعالیت، سرگرمی اور تعاون جاری رکھوں گا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ میرے دل میں تقویٰ موجود ہے۔ جس جوش و خروش کے ساتھ پہلے کام کرتا تھا، اگر اس کو بالکل ترک کر دیا یا اس میں کمی کر دی، تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ میرے دل میں بالکل تقویٰ موجود نہیں ہے (اگر میں نے بالکل کام کو ختم کر دیا)، یا میرے دل میں تقویٰ کم ہے (اگر میں پہلے دو گھنٹے روزانہ دیتا تھا، تو اب دو گھنٹوں کی جگہ پر آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ دیتا ہوں)، اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے دل میں تقویٰ کم ہے۔
اسی طرح اگر میں نے تنظیم کیلئے کام کیا تھا، تنظیم سے غلطی ہو گئی یا مجھ سے غلطی ہو گئی، اور آپ نے مجھے اپنی تنظیم سے نکال دیا۔ اب دو حالتوں سے خارج نہیں ہے: یا میں نے دو سال، پانچ سال، دس سال جو اس تنظیم کیلئے کام کیا تھا، اس پر میں راضی ہوں اور خوش ہوں، یا اس گزشتہ فعالیت پر میں پشیمان ہوں۔ اگر میں پشیمان ہو گیا کہ واقعاً میں نے غلطی کی تھی، یہ تو ایک سیاسی تنظیم تھی، مثلاً اپنی دکانداری یا تجارت کرتا، خواہ مخواہ میں نے پانچ یا دس سال اس تنظیم کیلئے ضائع کیے، اور آخر میں انہوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، تو یہ دلیل ہے اس بات پر کہ میرے دل میں تقویٰ موجود نہیں ہے۔ اور یہ دس سال کام جو میں نے کیا ہے، خدا و رسول ﷺ اور اہل بیت علیہ السلام، قرآن و اسلام اور تنظیم کیلئے نہیں کیا تھا، بلکہ اپنی شخصیت کیلئے، اپنی ساکھ کیلئے، اور اپنے مفادات کیلئے کیا تھا۔
چونکہ اگر میرے دل میں تقویٰ موجود ہوتا، اگر میں نے سب کام خدا کیلئے کیا ہوتا، تو میں ناراض نہ ہوتا، میں خفا نہ ہوتا۔ اس لیے کہ میں نے تو تنظیم کیلئے اور لوگوں کیلئے کام نہیں کیا تھا، خدا کیلئے کیا تھا۔ اب اگر آپ نے مجھے فارغ کر دیا ہے تو خدا نے تو مجھے فارغ نہیں کیا۔ اگر آپ نے میرے احسانات کو بھلا دیا ہے تو خدا نے تو انہیں فراموش نہیں کیا۔ بنابرایں اگر میرے دل میں تقویٰ الٰہی موجود ہے تو میں کہوں گا کہ “الحمد للّٰہ، میں نے دس سال اس تنظیم کیلئے اپنا وظیفۂ شرعی ادا کیا ہے، اب ہمارے بھائی مناسب نہیں سمجھتے کہ میں اس تنظیم میں مزید رہوں، تو اگر میں تنظیم سے خارج ہو گیا تو اسلام سے خارج نہیں ہوا۔
ہم بعض اوقات تنظیم اور اسلام کو ایک سمجھتے ہیں کہ اگر مجھے تنظیم سے نکال دیا تو گویا میں اسلام سے بھی نکل گیا۔ آئی۔ ایس۔ او میں جب تھا تو داڑھی رکھی ہوئی تھی، جب اس سے نکل گیا تو داڑھی بھی منڈوا دی۔ اگر پہلے مسجد میں آتا تھا، دعائے کمیل میں آتا تھا، تو جب آئی۔ ایس۔ او والوں نے مجھے فارغ کر دیا، تو پھر مسجد کو بھی خدا حافظ کہہ دیتا ہوں: ھَذَا فِرَاقٌ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ، فِیْ اَمَانِ اللّٰہِ۔ یہ دلیل ہے اس بات پر کہ میرے دل میں تقویٰ موجود نہیں ہے، اور میں نے جو کچھ کیا ہے، خدا کیلئے نہیں کیا ہے۔
کام صرف خدا کے لیے ہونا چاہیے
برادر عزیز! کام کرو، لیکن خدا کے لیے۔ اگر زیادہ کرو، لیکن خدا کے لیے نہ ہو، تو یہ سراب جیسا ہوگا، کہ جیسے دور سے انسان کو پانی نظر آتا ہے لیکن جب نزدیک جاتا ہے تو کچھ نہیں ہوتا۔ یہ آپ کو یہاں کچھ دکھائی دے رہا ہے، لیکن موت کے بعد آپ دیکھیں گے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔
کم کام کرو، لیکن خدا کے لیے ہو، خلوص کے ساتھ ہو۔ آپ نے خود اپنے بینروں پر شہید مطہریؒ کا یہ فرمان لکھا ہوا ہے۔
اپنی ذات کے لیے کام کرنا بت پرستی ہے۔
خدا اور لوگوں کے لیے کام کرنا شرک ہے۔
اپنا اور لوگوں کا کام خدا کے لیے کرنا عین توحید ہے۔
پس لوگوں کے لیے یا تنظیم کے لیے کام کرنا کس کی خاطر ہونا چاہیے؟ صرف خدا کے لیے
اصل محور خدا ہونا چاہیے۔ وہ ذات اور وہ نقطہ جس کے اردگرد ہمارا سب کچھ گھومتا ہو، وہ کیا ہونا چاہیے؟ خدا
جیسا کہ کیمونسٹوں کے نزدیک محور آلات و ابزار، اقتصاد ہیں، ہمارے نزدیک سب چیزوں کا مرکز خدا ہونا چاہیے۔ اگر ہم خدا کے لیے کام کریں گے تو ہم خوش ہوں گے، کیونکہ اس کا ہمیں نتیجہ ملے گا۔
آپ نے دیکھا ہوگا — میں نام نہیں لوں گا — بہت سے لوگوں نے کام کیا، بڑی بڑی ہستیاں تھیں، لیکن ان کے مقابلے میں دوسری ہستیاں بھی تھیں۔ وہ جنھوں نے خدا کے لیے کام کیا، اگرچہ کم تھے، لیکن آج ان کو خدا کے علاوہ ہم سب مسلمان بھی یاد کر رہے ہیں۔
جنھوں نے خدا کے لیے کام نہیں کیا تھا، خدا ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ (یہ تو وہ خود جانتا ہے)
آج لوگوں نے بھی ان کو بھلا دیا ہے۔
تقویٰ کی تیسری نشانی
تقویٰ کی تیسری نشانی یہ ہوگی کہ اگر ہمارے دلوں میں تقویٰ موجود ہے، تو پھر اگر ہمیں تنظیم سے نکال دیا جائے، تو دس سال جو ہم نے کام کیا ہے، اس پر ہم پشیمان نہ ہو جائیں۔ اگر ہم پشیمان ہو گئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے خدا کے لیے کام نہیں کیا تھا۔
ایک اور نشانی یہ ہے کہ جس تنظیم میں بھی انسان کام کرے — البتہ سلسلہ مراتب اپنی جگہ پر محفوظ ہو — اس سے بڑھ کر ہم عہدوں کو مقصد نہ سمجھیں۔ اگر ہمارے دلوں میں تقویٰ موجود ہے، تو پھر ان عہدوں کو وسیلہ سمجھیں، اور ان کے ذریعے ہم اعلیٰ و برتر و وسیع مقصد کے لیے کام کریں۔
اگر ہم نے انھیں مقصد سمجھ لیا، تو پھر جیسا کہ امام خمینیؒ مدظلہ نے بنی صدر منافق کے دور میں یہ جملہ فرمایا تھا
اگر آپ یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ سب کچھ میرے چینل کے ذریعے ہو، اور جو کچھ میرے چینل کے ذریعے ہوگا، وہ سو فیصد صحیح اور عین اسلامی ہوگا، اور اگر وہی کام زید کرے تو وہ غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے، تو اگر یہ سوچ رکھتے ہو، تو یہ اسلامی سوچ نہیں ہے اور تقویٰ کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی۔
آپ کا مطمح نظر یہ ہو کہ اس معاشرے میں ان مظلوموں کی جو مشکلات ہیں، اگر ہمارا یہ مقصد ہو کہ ان بیچاروں کی مشکلات حل ہو جائیں اور ان کے دردوں میں سے کچھ کی دوا ہو جائے، خواہ وہ دوا میرے ذریعے سے ہو یا دوسرے کے ذریعے سے ہو۔
اب ہم بعض اوقات ناموں سے بگڑ جاتے ہیں۔ ابھی تک یہ موقع نہیں آیا، لیکن خوب، یہ بھی بعید نہیں ہے کہ ناموں تک آ جائیں، کہ ہم مثلاً نام پر آپس میں جھگڑیں کہ یہ کام آئی۔ ایس۔ او کے نام سے ہونا چاہیے، کام ہوگا، لیکن نام آئی۔ ایس۔ او کا ہونا چاہیے۔ دوسرا کہے، نہیں، آئی۔ او کا ہونا چاہیے۔ تیسرا کہے، نہیں، تحریک کے نام سے ہونا چاہیے۔
اگر ہم آپس میں الجھ گئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں تقویٰ نہیں ہے۔ بابا! ہمیں تو یہ نہیں دیکھنا ہے کہ میرے نام سے ہو یا آپ کے نام سے ہو، میرے ذریعے ہو جائے یا آپ کے ذریعے ہو جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کام ہو جائے۔
اب اس سلسلے میں ہم نے ایسے اشخاص بھی دیکھے ہیں، جنھوں نے بعض جگہوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ مثلاً یہیں کراچی میں چھ جولائی کو ہمارے ساتھ جو مسئلہ پیش آیا تھا، ہم نے ایک صاحب سے کہا کہ زخمیوں کے لیے کمک و مدد کی ضرورت ہے، تو انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن ہمارا نام نہ لیں۔
یا اسی طرح ایک اور بزرگ شخصیت ہیں جو چاہتے ہیں کہ کسی جگہ پر اس قسم کے کام کریں، لیکن وہ نہیں چاہتے کہ ان کا نام لیا جائے۔ یہ تقویٰ کی دلیل ہے۔
چونکہ ہمارے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ نفس بڑا خطرناک ہے، یہ مختلف راستوں سے انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ بعض اوقات ریا کے ذریعے انسان کو خراب کرتا ہے۔ پس اگر ہم ان چیزوں میں لگ جائیں کہ میرا نام ہو جائے، چونکہ میں آئی۔ او کے ساتھ مربوط ہوں یا تحریک کے ساتھ ہوں — یہ جو ہم تحریک کا نام لیتے ہیں، درحقیقت ہمیں تحریک کی فکر نہیں ہوتی، ہمیں اپنی فکر ہوتی ہے۔ تحریک کا نام اس لیے لیتے ہیں کیونکہ تحریک میں “ہم” ہیں۔
تو یہ خود ایک قسم کی ریا ہے، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میرے دل میں تقویٰ نہیں ہے۔
ہمیں تو کام کرنا چاہیے تھا، چاہے وہ جس کے نام سے ہو۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے کاموں کا رنگ اسلامی ہو، تو ہمیں ان چیزوں سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے
فلاں نام، یا میرا عہدہ، وغیرہ — یہ نہیں ہونا چاہیے۔
تقویٰ کی چوتھی نشانی
تقویٰ الٰہی کی چوتھی نشانی یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو افلاطون نہ سمجھے۔ اگر میں کسی تنظیم میں ہوں — آئی۔ ایس۔ او، آئی۔ او، یا تحریک میں ہوں — اور میں یہ سوچ رکھتا ہوں کہ اس تنظیم میں جو کچھ میں سمجھتا ہوں، وہ اس تنظیم کے دوسرے افراد نہیں سمجھتے، اگر میں یہ سوچ رکھتا ہوں، تو یہ بھی تقویٰ کے خلاف ہے۔
اگر ہمارے دلوں میں تقویٰ موجود ہے، تو
فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ
ہر باعلم شخصیت کے اوپر خدا نے اس سے زیادہ علم رکھنے والے کو رکھ دیا ہے۔
مثال کے طور پر: میں آئی۔ ایس۔ او یا آئی۔ او میں آیا ہوں، تو ابھی جو لڑکے مجھ سے ایک یا دو سال بعد آئے ہیں، اب میں ان پر بزرگی ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ میں ان سے ایک سال پہلے آیا ہوں۔ یہ تو کوئی بزرگی نہ ہوئی۔ چونکہ یہ مجھ سے ایک سال عمر میں چھوٹے ہیں، اگر یہ مجھ سے ایک سال بڑا ہوتا تو یہی مجھ سے ایک سال پہلے تنظیم میں آتا۔ یہ تو فضیلت کا معیار نہ ہوا۔
کیونکہ دو سال، پانچ سال پہلے اس تحریک میں آیا ہوں، لہٰذا اگر ایک مجلس ہو، تو مجھے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ میں اس سے پہلے اس تنظیم میں آیا ہوں، لہٰذا یہ میرے احترام کے لیے اٹھے — اگرچہ وہ مجھ سے زیادہ کام کیوں نہ کرتا ہو۔
پس ہم میں یہ سوچ نہیں ہونی چاہیے کہ جو کچھ میں سمجھتا ہوں، یہی حرفِ آخر ہے، اور دوسرے بھائی یہ نہیں سمجھ سکتے۔ تو یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔
میں نے کل بھی ادھر عرض کیا کہ ہمارے مراجع عظام، وہ بھی جب حالات اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں اور ان کے فتویٰ میں تبدیلی آ جاتی ہے تو وہ اعلان کرتے ہیں۔
اب ہماری تنظیموں میں یہ بات پیدا ہو جائے کہ، مثلاً: میں آپ سے چند دن پہلے آیا ہوں، میں کہوں کہ میں تو سمجھتا ہوں، آپ اگر اچھے بھی ہیں، لیکن چونکہ آپ کو ایک سال ہوا ہے اس تنظیم میں آئے ہوئے، اس لیے جب آپ بات کرتے ہیں تو میں کہتا ہوں: ’چپ ہو جاؤ، بیٹھ جاؤ، تم تو کل آئے ہو، تم بات کرتے ہو؟‘ — یہ تقویٰ نہیں ہے۔
ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ سمجھتا ہو۔ ہو سکتا ہے اس کے ذہن میں ایسے نکات ہوں جن تک میرا ذہن نہ پہنچا ہو، تو ہمیں یہ سوچ اپنے ذہن سے نکال دینی چاہیے۔
بلکہ حقیقت یہ ہے — ابھی چونکہ بحث بہت طولانی ہو جائے گی — لیکن شہید مطہریؒ نے تین مراحل قرار دیے ہیں، اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ جتنا انسان زیادہ سمجھتا جاتا ہے، اتنا انسان زیادہ اپنے جہل کا اقرار کرتا ہے کہ میں تو نہیں سمجھتا۔
یہ اگر تھوڑی سی معلومات ہم نے حاصل کر لیں، پھر ہمارے ذہن میں فرعونیت آ جائے، اور ہم اپنے آپ کو افلاطونِ زمانہ سمجھ کر دوسرے کو اصلاً موقع نہ دیں، تو یہ ہمارے دل کے تقویٰ سے خالی ہونے پر دلیل ہے۔
جنابِ عالی! یہ سوچ ہمارے ذہنوں میں نہیں ہونی چاہیے۔ اب مثال کے طور پر میں نے آپ سے چند مسئلے زیادہ سیکھ لیے ہیں، ٹھیک ہے۔ پس اگر میرے ذہن میں یہ آیا کہ میں ان سے بالاتر ہوں، تو بابا! مجھ سے مجتہد زیادہ جانتا ہے، مجتہد سے پھر امامِ معصومؑ زیادہ جانتے ہیں۔ تو اب ہمیں نیچے نہیں دیکھنا چاہیے، ہمیں اوپر دیکھنا چاہیے۔
میں اگر یہ دیکھ لوں کہ میری معلومات ان سے زیادہ ہیں، تو بہتر ہے کہ میں اپنے اوپر علماء اور مجتہدین کو دیکھوں کہ ان کی کتنی معلومات ہیں۔ پس اگر میں اوپر کو مدنظر رکھوں گا تو پھر میں دوسروں پر، جو مجھ سے کم معلومات رکھتے ہیں، ان پر فخر و مباہات نہیں کروں گا، اور نہ ہی میں اپنے آپ کو کسی سے بالاتر سمجھوں گا۔
تقویٰ کی پانچویں نشانی
تقویٰ کی پانچویں نشانی یہ ہے کہ ہمیشہ اپنے آپ کو کم سمجھو۔ اپنے آپ کو سب سے چھوٹا سمجھ لو۔ اگرچہ ٹھیک ہے کہ خدا نے آپ کو مقام دیا ہے، آپ کے بھائی بھی آپ کو نظر انداز نہیں کریں گے، لیکن آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آپ اپنے آپ کو بڑا سمجھیں۔
آپ خود قائدِ عظیم الشان انقلاب کو دیکھیں، کبھی انہوں نے نہیں کہا کہ میں یہ ہوں، وہ ہوں، بلکہ وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں: “من یک طلبہام” — یعنی میں ایک طالب علم ہوں۔
اور یہ بات کہتا چلوں (معذرت چاہتا ہوں)، میرا کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ ہم کلیات کو بیان کرتے ہیں، اگر اس سے پھر آپ کے ذہن میں کوئی خاص آدمی آ جائے، تو اس میں میرا قصور نہیں ہے۔
یہ جو ہم منبروں پر کہتے ہیں: میں یہ کہتا ہوں — یہ میں کا لفظ جو آتا ہے، یہ بڑا خطرناک ہے۔ بہت خطرناک لفظ ہے۔
اس لیے میں نے عرض کیا کہ انسان کی معلومات جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہیں، اس کا علم جتنا بڑھتا ہے، اتنی اس کی تواضع زیادہ ہو جاتی ہے، اتنا اسے اپنے جہل کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔
اب اگر میں یہ کہوں کہ: میں، مثلاً، یہ کہتا ہوں — اس کا مقصد یہ ہے کہ میرے دل میں ایک بت چھپا ہوا ہے، جو یہ بات میری زبان سے کہلواتا ہے۔
آپ نے خود بار بار سنا ہوگا، بنی صدر منافق کے زمانے میں امام خمینیؒ نے ایک تقریر میں فرمایا تھا
برکس بگوید من، این شیطان است
نگو من، بگو مکتب من
یعنی
یہ کہ میں یوں ہوں، فلاں ہوں — ایسی باتیں مت کرو، اپنے مکتب کی بات کرو، جو آپ کی فکر ہے، جو آپ کا مدرسہ ہے، جو آپ کا دین ہے — اس کی بات کرو۔
اگر ہم یہ کہیں کہ میں یوں ہوں، میں فلاں ہوں، تنظیم میں… یا میں منبر پر کہوں: میں… — تو یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اس دل میں تقویٰ موجود نہیں ہے۔
یہ حقائق ہیں، برادر۔
اب، میں نے عرض کیا کہ میری مراد کوئی خاص فرد نہیں ہے، لیکن یہ ایک واقعیت ہے، جو میں آپ کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں۔
جس شخص کے دل میں تقویٰ ہو گا، وہ میں نہیں کہے گا۔
ابھی بھی بھائی کے ساتھ یہ بات ہو رہی تھی کہ دوست بھی جانتے ہیں اور دشمن بھی جانتے ہیں کہ اس انقلاب میں جو کردار رہبر کبیرِ عالمِ اسلام حضرت امام خمینیؒ روحی لہ الفداء کا ہے، وہ کسی اور کا نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اگر امام خمینیؒ نہ ہوتے تو انقلاب کی کامیابی کو تو چھوڑیں، یہ انقلاب شروع ہی نہ ہوتا۔ کامیابی تو دوسرا مسئلہ ہے، حفاظت تیسرا مسئلہ ہے۔ پہلا مرحلہ ہوتا ہے انقلاب کا جاری اور شروع ہونا، دوسرا مرحلہ ہے انقلاب کو کامیابی تک پہنچانا، تیسرا مرحلہ ہے انقلاب کو کامیابی کے بعد محفوظ رکھنا۔
خوب! ان تین مراحل میں جو کردار رہبر کبیرؒ کا ہے، وہ کسی کا نہیں ہے — یہ سب جانتے ہیں۔
خوب! اب دوست بھی جانتے ہیں کہ انقلاب امام خمینیؒ نے برپا کیا ہے اور آج بھی امام خمینیؒ کی برکت سے قائم ہے، دشمن بھی جانتے ہیں۔
لیکن آپ حضرت امام کی تقریر بھی سن لیں — 1983ء میں یا شاید اس سے پہلے — ایک کتاب چھپ چکی ہے: صحیفہ نور، جس کی تیرہ جلدیں میرے پاس بھی ہیں۔ اس میں امام خمینیؒ کی تقریریں، خطوط اور انٹرویوز سب کچھ نقل کیے گئے ہیں ابتدائی دور سے اب تک۔
آپ ایک جگہ ثابت نہیں کر سکتے کہ امامؒ نے فرمایا ہو: میں نے انقلاب برپا کیا، میں نے اس انقلاب کی حفاظت کی وغیرہ۔
اگر امام خمینیؒ کے دل میں تقویٰ الٰہی نہ ہوتا، تو وہ یوں کہتے۔
ہم ایک مدرسہ بناتے ہیں، تو جب بھی ہمیں کوئی موقع ملتا ہے، ہم کہتے ہیں: میں نے اپنے شہر میں مدرسہ بنایا ہے، میں نے مسجد بنائی ہے، میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا۔ ایک تقریر میں آدھا وقت تو میں اپنے تعارف پر ختم کرتا ہوں کہ: میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا…۔
اب، آگے بھی ہمارے یہ ارادے ہیں، لیکن امامؒ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ میں نے یہ کیا ہے۔
اب یہاں پر آپ تنظیم میں جو فعالیت کرتے ہیں، وہ اپنی جگہ پر درست ہے، لیکن آپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ
میں جب اپنے دور میں صدر تھا، جنرل سیکریٹری تھا، میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا
آپ کو نہیں کہنا چاہیے۔
ہاں! آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ: بہرحال، ہمیں کچھ کرنا چاہیے تھا، لیکن ہمیں توفیق نہیں ہوئی۔
یعنی آپ یہ اظہار کریں کہ: اتنا ہمیں کرنا چاہیے تھا، لیکن ہم سے نہ ہو سکا۔
اگر تقویٰ ہے، تو پھر ہماری زبان پر یہ ہوگا کہ
ہم کام نہ کر سکے، ہم اقرار کرتے ہیں، ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم زیادہ کام نہیں کر سکے۔
ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم زیادہ کام نہیں کر سکے۔
ایک درد میں سے ایک درد یہ ہے کہ اگر ہم نے کچھ بھی نہیں کیا، اور ابھی چونکہ ہمارے یونٹ کا مرکزی سطح پر اجلاس ہونے والا ہے، تو ہمیں کچھ کاغذی کارروائی بنانی ہے۔ ادھر اُدھر سے اگر انجمن والوں نے کوئی فنکشن کیا ہو، تو اس کو ہم نے اپنے نام سے لکھنا ہے۔ اگر فرض کیجیے کسی پرندے نے درخت پر بیٹھ کر آواز دے دی، تو اسے بھی اس میں لکھنا ہے۔ یہ کہ وہاں تو مثلاً کچھ دکھانا ہے۔
یہ ایک درد ہے۔ واقعاً درد ہے۔
آپ، ہماری دوسری تنظیموں کی نسبت، الحمد للّٰہ زیادہ منظم ہیں۔ اور آپ میں، الحمد للّٰہ، خلوص پایا جاتا ہے۔ اور ابھی آپ کے اذہان اتنے خراب نہیں ہوئے ہیں۔ آپ سے ہمیں امید ہے۔
ان شاء اللہ، آپ اس مرض میں زیادہ مبتلا نہیں ہوں گے۔
اگر مبتلا ہیں، تو اس کو ختم کریں گے۔
اور اگر مبتلا نہیں ہیں، تو آئندہ اس مرض میں مبتلا نہ ہونے کے لیے ابھی سے فکر کریں — کہ
اگر ہم کچھ بھی نہیں کرتے
اور قوم کو کچھ دکھانا ہے
اپنی مرکزی کابینہ کو اجلاس میں کچھ بتانا ہے
تو دو سال پہلے بھی ہم نے اس دن دیکھا تھا کہ اپنی کچھ ڈویژنوں/ ضلعوں نے بعض جگہوں پر ۸۵ء کی باتیں بتائیں — یعنی انہوں نے جو پہلے کارروائی ہوئی تھی، چونکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، لہٰذا انہوں نے وہ کارروائی بھی اس سال میں پیش کی۔
آی۔ ایس۔ او کے جوانوں کو خراج تحسین
خوب، تو یہ نشانیاں ہیں تقویٰ کی۔ اگر بخدا ہم نے تقویٰ اپنے دلوں میں پیدا کیا تو پھر ہم اپنی تنظیم کو پارٹی بازی میں تبدیل نہیں کریں گے۔ مجھے امامیہ اسٹوڈنٹس کے عموماً، اور کراچی کے امامیہ اسٹوڈنٹس کے جوانوں سے خصوصاً محبت ہے، پہلے خصوصاً ۷ جولائی کو جو میرے پاس آئے تھے۔ معذرت چاہتا ہوں، ہمارے دوسرے رفقاء ہمارے نزدیک نہیں آتے تھے، تو انہوں نے رات ایک بجے تک، دو بجے تک کام کیا، اور دن کو بھی اس وقت تک جب ہم یہاں سے چلے گئے، یہ شب و روز کام کرتے رہے۔ تو میں نے ادھر بھی جا کر کہہ دیا کہ واقعاً کس خلوص کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں، یہاں تک کہ کسی چیز کی توقع نہیں رکھتے، کام کرتے ہیں۔ اگر ہم ان جوانوں کے احساسات کی قدر نہیں کریں گے، اور جس طرح خلوص کے ساتھ کام کرتے ہیں، ہم بھی اسی خلوص کے ساتھ ان کے ساتھ نہیں چلیں گے، تو ہم کس منہ کے ساتھ خدا کے سامنے کل حاضر ہوں گے۔
اتحاد و اتفاق کی ضرورت
یہ میں عرض کروں کہ مجھے جو معلومات پشاور میں حاصل ہوئی ہیں، یہاں پر بھی آ کر حاصل ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں کہ آپ میں کچھ گروہ بندی پیدا ہو گئی ہے، اور آپ یک دست ہو کر جس طرح کہ آپ کو متحد ہونا چاہیے، اس طرح نہیں ہیں۔ یہ ایک مرض ہے۔ دیکھیں بھائی! یہ میں بار بار کہتا ہوں، مجھ ملاں کو شیطان سینما نہیں لے جا سکتا، سمجھ گئے؟ مجھ ملاں کو شیطان شراب کی دکان پر نہیں لے جا سکتا، مجھ ملاں کو شیطان داڑھی مونڈھنے کے لیے نہیں ورغلا سکتا، چونکہ لوگوں میں بدنام ہو جاؤں گا، لوگوں کے ڈر کی وجہ سے میں سینما نہیں جا سکتا، لوگوں سے شرم کی وجہ سے داڑھی نہیں مونڈھ سکتا۔ مجھ ملاں کو مختلف زاویوں سے شیطان گمراہ کرے گا۔ آپ امامیہ اسٹوڈنٹس کو بھی اسی طرح۔
اب آپ کی تنظیم ماشاء اللہ ایک حد تک پہنچ گئی ہے کہ عام باتوں پر جو دوسرے جوانوں کو شیطان اغوا کرتا ہے، آپ کو اغوا نہیں کر سکتا۔ آپ کو کس طرح اغوا کرے گا؟ آپ کو اس طرح اغوا کرے گا کہ آپ کے دل میں یہ ڈال دے گا کہ جو کچھ میں سمجھتا ہوں، یہ سو فیصد امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا خط ہے۔ میرا دوسرا بھائی، جو کہ اس خط پر نہیں چل رہا، وہ امریکی ایجنٹ ہے، یہ دوسروں کی طرف سے مامور ہے۔ یہ صحیح بات نہیں ہے، یہاں سے شیطان آپ کو گمراہ کرے گا، یہاں سے شیطان آپ کو ورغلائے گا۔ بھائی! آپ فوراً مجھے امریکی ایجنٹ نہ بناؤ، ہو سکتا ہے مجھے غلط فہمی ہو گئی ہو، ہو سکتا ہے آپ غلط سوچ رہے ہوں۔
پس، اس تنظیم میں ہم دھڑے بندی نہ بنائیں جس سے پوری تنظیم کو نقصان پہنچے۔ اگر آپ کے دلوں میں تقویٰ ہے، اگر آپ خدا کے لیے کام کر رہے ہیں، اگر آپ امامِ زمانہ علیہ السلام کی خوشنودی کے لیے کام کر رہے ہیں، تو پھر آپ کو کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے آپ کی اس پاک اور منظم تنظیم، جس پر بہت خرچ ہوا ہے، جس کے لیے کافی تکلیفیں اٹھائی گئی ہیں، اس تنظیم کو نقصان پہنچے۔ اگر تقویٰ آپ کے دل میں موجود ہے، تو آپ قربانی دے دیں۔
فرض کریں، ایک بھائی کی سوچ آپ کے موافق نہیں ہے، تو آپ یہاں پر اس مسئلے کو وقتی طور پر متوقف کر کے اپنے اوپر سے بالاتر، جو ماشاء اللہ مسائل اسلامی پر زیادہ مطالعہ رکھتے ہیں، زیادہ ملتِ شیعہ کے مسائل پر نظر رکھتے ہیں، آپ ان سے مشورہ لے لیں، ان تک بات پہنچائیں۔ نہ یہ کہ آپ وہاں تنظیم میں گروہ بندی شروع کر دیں، اور اس گروہ بندی کے نتیجے میں تنظیم کو نقصان پہنچے۔
ہم یہ کہتے ہیں، اس دفعہ بھی میں نے آپ کی خدمت میں، آپ کے مرکزی صدر محترم جب پشاور آئے تھے، ان کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ ہم یہ نہ سوچیں کہ بالکل ہمارے رفقاء کی سوچ میں کوئی دوسری سوچ نہیں ہو سکتی۔ آپ آئی۔ ایس۔ او کے ساتھ ہیں، دشمنانِ اسلام اس کے خلاف حصار قائم کرتے ہیں۔ اس کی ناکامی کے لیے وہ منصوبے بنائیں گے، وہ سوچیں بنائیں گے، اور ان میں سے یہ ہو گا کہ یا ڈائریکٹ وہ آپ کے اندر اپنے افراد کو بھیج دیں۔ وہ افراد جو آئیں گے، وہ داڑھی والے ہوں گے، وہ ہر لحاظ سے باقاعدہ مثلاً آپ سے زیادہ اپنے آپ کو مذہبی پیش کریں گے، خوب، جس طرح کہ عام طور پر بھی ہے۔ قم میں اور دوسری جگہوں میں بھی اس قسم کے افراد، جو دوسروں کی طرف سے تھے، اور وہ مثلاً اسلامی لباس بھی پہنتے تھے، وغیرہ وغیرہ۔
یا اگر وہ ڈائریکٹ نہ آ سکیں، تو ہو سکتا ہے کہ مجھ کو وسیلہ بنائیں، اور پھر ان کے ساتھ رابطہ ہو، اور وہ میرے ذہن میں اپنے افکار کو ڈالتے رہیں، اور وہ میرے ذریعے آپ کے درمیان رخنہ ڈال دیں۔
تو میں آپ کو اور آپ کے دوسرے، مثلاً، بھائی کو — ان دونوں کو یہ نہیں کہتا کہ آپ ایجنٹ ہیں یا وہ۔ آپ ان پر الزام نہ لگائیں، وہ آپ پر نہ لگائیں، اور جیسا کہ پہلے بھی میں نے عرض کیا، آپ دوسرے بھائی کے فعل کو حمل بر صحت کر لیں (یعنی اسے صحیح سمجھیں)، اور اپنی تنظیم میں دھڑے بندی بنانے کی بجائے، آپ مسئلے کو اپنے سے بالاتر، جو آپ کی مجلسِ نظارت ہے، ان تک پہنچائیں، تاکہ ادھر سے مسئلہ حل ہو جائے۔
اور اس سے ہمیں تشویش ہے — خدانخواستہ، آپ کی تنظیم کو اس سے نقصان پہنچے گا۔ اور ان شاء اللہ، ہم نے یہ جو باتیں آپ کی خدمت میں عرض کیں، صرف اس لیے نہیں ہیں کہ آپ انہیں سن لیں، ہمیں یہ توقع ہے کہ آپ عملی طور پر اس کو اپنے دل میں جگہ دے دیں گے۔ اور خصوصاً، یہ دھڑے بندی جیسا کوئی مسئلہ ہو — خدا کرے کہ نہ ہو — اس کو آپ یہاں چھوڑ دیں گے، اور آپ جب یہاں سے نکلیں گے تو یدِ واحد بن کر، اور آپ کے دل ایک ہو کر، یہاں سے اپنے مورچے کی طرف واپس ہو جائیں گے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ


